ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بالآخر رویش کمار نے بھی این ڈی ٹی وی سے دیا استعفیٰ

بالآخر رویش کمار نے بھی این ڈی ٹی وی سے دیا استعفیٰ

Thu, 01 Dec 2022 00:07:31    S.O. News Service

نئی دہلی،یکم دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) این ڈی ٹی وی کے سینئر ایگزیکٹو ایڈیٹر اور رمن میگسیسے ایوارڈ حاصل کرنے والے رویش کمار نے بھی بالآخر این ڈی ٹی وی سے اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔ ذرائع کی مانیں تو رویش کمار نے اسی وقت اپنا استعفیٰ پیش کرنے کا من بنالیا تھا جب جب میڈیا کے ذریعے خبریں آنے لگی تھی کی معروف بزنس مین اڈانی نے اس نیوز چینل کے شئیرس خرید لئے ہیں اور این ڈی وی بہت جلد اڈانی کا چینل بننے والا ہے، منگل کو جب چینل کے فاونڈر پرونوئی رائے اور رادھیکا رائے نے اپنا استعفیٰ پیش کیا تو اگلے ہی روز بدھ کو رویش کمار نے بھی اپنا استعفیٰ دے دیا 

یاد رہے کہ رویش کمار این ڈی ٹی وی میں متعدد پروگرامز کی میزبانی کرتے ہوئے گودی میڈیا کو بے نقاب کرنے کے مشن میں لگے ہوئے تھے۔ ان ہی کے حقیقت اندازانہ رپورٹنگ سے این ڈی ٹی وی کی ساکھ عوام میں بنی ہوئی تھی اور عوام اس چینل کو سیکولر چینل کے طور پر دیکھتے تھے۔ رویش کمار کی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ اور ان کے بے باک تبصروں کی وجہ سے عوام کو گمراہ کرنے والوں اور جھوٹ کا سہارا لے کر عوام کو بے وقوف بنانے والوں کو بہت زیادہ چوٹ پہنچ رہی تھی۔ سمجھا جارہا تھا کہ ان کی بے لاگ رپورٹنگ کو دیکھتے ہوئے حکمراں طبقہ کبھی بھی ان کے چینل کو خرید سکتا ہے اور ایسا ہی ہوا۔

رویش کمار نے ہمیشہ اپنے صحافتی کیریئر میں اہم اور بنیادی مسائل کو اٹھانے کی کوشش کی۔ اب ان کے استعفیٰ کے بعد یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا رویش کمار اپنا خود کا کوئی چینل شروع کرتے ہیں یا پھر یوٹیوب کے ذریعے حق کی آواز کو بلند کرتے ہیں یا پھر ان کا کچھ اور ہی ارادہ ہے۔

رویش کمار کے استعفیٰ کی خبر این ڈی ٹی وی گروپ کی صدر سپرنا سنگھ کے ذریعے سامنے آئی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق سپرنا سنگھ نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ رویش نے این ڈی ٹی وی سے استعفیٰ دے دیا ہے اور کمپنی نے ان کے استعفیٰ کو فوری طور پر قبول بھی کرلیایے۔

رویش کمار کے این ڈی ٹی وی سے نکلنے کے بعد یہ دیکھنا بھی اہم ہوگا کہ اگے چل کر یہ چینل بھی دوسرے چینلوں کی طرح گودی میڈیا کی صف میں جا کھڑا ہوگا یا چینل کا نیا مالک اس چینل کی سیکولر ساکھ کو بحال رکھنے کی کوشش کرے گا۔ اگر یہ چینل بھی دوسرے چینلوں کی صف میں چلا جاتا ہے تو پھر یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دوسری گودی میڈیا کے ساتھ یہ چینل کیسے مقابلہ کرے گا۔


Share: